اسلامک ریسرچ فورم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
اسلامک ریسرچ فورم شعبہ علوم اسلامیہ ، جامعہ سرگودھا میں خوش آمدید۔
ازراہ کرم آپ سب سے پہلے فورم پر اپنی رجسٹریشن کا اہتمام کریں تاکہ فورم کے تمام گوشوں تک آپ کی رسائی ہوسکے۔ شکریہ

بیان القرآن“ اور ”تفہیم القرآن“ کے اردو تراجم قرآن کا تقابلی جائزہ

Go down

بیان القرآن“ اور ”تفہیم القرآن“ کے اردو تراجم قرآن کا تقابلی جائزہ

Post  عبدالحئی عابد on Tue Dec 07, 2010 6:57 am

” بیان القرآن“ اور ”تفہیم القرآن“ کے اردو تراجم قرآن کا تقابلی جائزہ
تحریر:ڈاکٹر محمد گجر خانغزل کا شمیری
قرآن پاک کے اکثر اردو تراجم میں معنوی یگانگت کا ہونا ایک فطری امر ہےلیکن اگر دو تراجم میں لفظی اتحاد ہواور وہ بھی ان گنت آیات کے تراجمتو یہ ایک عجیب مظہر ثابت ہو گایہ عجیب مظہر مولانا اشرف علی تھانوی کی تفسیر”بیان القرآن“ اور مولانا ابوالاعلی مودودی کی تفسیر ”تفہیم القرآن“ کے اردو تراجم میں پایا جاتا ہے دونوں بزرگوں کے اردو تراجم، تفسیروں سے علیحدہ بھی طبع ہو چکے ہیں۔
اگرتراجم میں لفظی مماثلت دو چار مقامات تک محدود ہو تو ہم یہ عذر کر سکتے ہیں کہ یہ ایک علمی آمد اور آفاقی حقیقت ہے جودو جینئیس حضرات کے نظریہ اور کلام میں مُلھم ہو جاتی ہےلیکن اگر یہ یک رنگی لاتعداد مقامات پر ملے تو لازماً یہ تسلیم کرنا پڑے گاکہ متاخر جینئیس نے مقدم سے شعوری سے استفادہ کیا ہے یہ اور بات ہے کہ وہ مقدم کو اپنا ماخذ تسلیم نہ کرے۔
آئیے ان مقامات کا مطالعہ کرتے ہیں جن کے مطابق بیان القرآن اور ”تفہیم القرآن“ میں قرآن پاک کی آیات کے اسماء و افعال کے تراجم میں لفظی مماثلت پائی جاتی ہےیہاں یہ حقیقت پھر مدنظر رہے کہ ہم نے وہی مثالیں پیش کی ہیں جن میں مشابہت لفظی ہے مثلاًدرج ذیل مثال سے ہم نے اعراض کیاہےسورة القصص کی آیت۵۹:
” وَمَاکَانَ رَبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثُ فیْ اُمِّھَا رَسُوْلاً“
مولانا تھانوی اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں”اور آپ کا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا جب تک ان کے صدر مقام میں کسی پیغمبر کو نہ بھیج لے“ مولانا مودودی اس کا ترجمہ یوں کرتے ہیںاور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھاجب تک کہ اس کے مرکز میں ایک رسول نہ بھیج دیتایہاں ام کے ترجمہ صدر مقام یا مرکز معنوی موافقت تو ہے لیکن لفظی لحاظ سے اختلاف و تفاوت ہے ہم نے ایسی مثالوں سے صرف نظر کیا ہے اب ہم ترتیب وار وہ آیات پیش کرتے ہیں جن کے اسماء افعال میں دونوں بزرگوں کے تراجم میں مشابہت پائی جاتی ہے۔
سورةالبقرة
ترجمہ: مولانا اشرف علی تھانوی مولانا ابو الاعلی مودودی
آیت ۲۰: لَذَھَبَ بِسَمْعِھِمْ وَاَبْصٰارِہِمْ
ان کے گوش وچشم سلب کر لیتے ان کی سماعت اور بصارت بالکل ہی سلب کر لیتا
آیت ۲۲: فَلاَ تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنَدْادًا
اب تو مت ٹھہراو اللہ پاک کے مقابل تو دوسروں کو اللہ کے مدمقابل نہ ٹھہراو
آیت۳۵: وَکُلاَ مِنْھَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا
پھر کھاؤ دونوں اس میں سے بافراغت جس جگہ سے چاہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاو
آیت۴۴: وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ
حالانکہ تم تلاوت کرتے رہتے ہو کتاب کی حالانکہ تم تلاوت کرتے ہو کتاب کی
آیت۶۰: وَ اِذْ اسْتَسسْقٰی مُوْسٰی لِقَوْمِہ
اور جب موسٰی نے پانی کی دعا مانگی اپنی قوم کے واسطے یاد کرو جب موسٰی نے اپنی قوم کے لئے پانی کی دعاکی
آیت۶۱: وَّکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ
اور دائرہ سے نکل نکل جاتے کہ وہ حدود شرع سے نکل نکل جاتے تھے
آیت۶۴: لَکُنْتُمْ مِّنَ الْخَاسِرِیْنَ
تو ضرور تباہ ہو جاتے ورنہ تم کب کے تباہ ہو چکے ہوتے
آیت۸۸: وَقَالُوْا قُلُوْبُنَاغُلْفٌ
اور کہتے ہیں ہمارے قلوب محفوظ ہیں وہ کہتے ہیں ہمارے دل محفوظ ہیں
آیت۹۷: قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبِْریْلَ
آپ یہ کہیے جو شخص جبریل سے عداوت رکھے ان سے کہوجو کوئی جبریل سے عداوت رکھتا ہے
آیت۱۱۵: فَاَیْنَمَا تُوَلَّوْافَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ
تو تم لوگ جس طرف بھی منہ کرو ادھر اللہ تعالیٰ کا رخ ہے جس طرف بھی تم رخ کرو گے
اسی طرف اللہ کا رخ ہے
آیت۱۱۷: بَدِیْعُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ
موجد ہیں آسمانوں اور زمین کے وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے
آیت۱۲۰: قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ھُوَالْھُدٰی
آپ کہہ دیجیے کہ حقیقت میں ہدایت کا وہی راستہ ہے صاف کہہ دو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ
جس کو خدا نے بنایا ہے نے بتایا ہے
آیت۱۲۷: وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرَاہمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ البَیْتِ وَاِسْمٰعِیْلُ
اور جب اٹھارہے ہیں ابراہیم دیواریں اور اسمعیل بھی اور یاد کرو ابراہیم واسمعیل جب اس گھر کی
دیواریں اٹھارہے۔
آیت۱۴۵: اِنَّکَ اِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِیْنَ
تو یقینا آپ ظالموں میں شمار ہونے لگیں تو یقینا تمہارا شمار ظالموں میں ہو گا
آیت ۲۱۳: کَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً
سب آدمی ایک ہی طریق کے تھے ابتداء میں سب لوگ ایک ہی طریقے پر تھے
آیت۲۴۹: فَمَنْ شَرِبَ مِنْہُ فَلَیْسَ مِنِّیْ
سو جو شخص اس سے پانی پیئے گا وہ تو میرے ساتھیوں میں نہیں جو اس کا پانی پیئے گا وہ میرا ساتھی نہیں
آیت۲۵۵: اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ
زندہ ہے سنبھالنے والا ہے وہ زندہ جاوید ہستی جو کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے
آیت۲۶۱: وَاللّٰہُ یُضَاعِفُ لِمَنْ یَّشَآء
اور یہ افزونی خدا تعالیٰ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے افزونی عطا فرماتا ہے
سورة آل عمران
آیت ۲۶: بِیَدِکَ الْخَیْرُ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدَیْرٌ
آپ ہی کے اختیار میں ہے سب بھلائی بلاشبہ آپ ہر چیز پر قادر ہیں بھلائی تیرے اختیار میں ہے بے
شک توہرچیز پر قادر ہے
آیت۱۵۶: یٰااَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَتَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا
اے ایمان والوتم ان لوگوں کی طرح مت ہوجانا اے لوگوجو ایمان لائے ہو کافروں کی سی بات نہ کرو
(یعنی ان لوگوں کی سی بات مت کرنا)جو حقیقت میں کافر ہیں
نوٹ: مولانا اشرف علی تھانوی نے جو وضاحت بریکٹ کے اندر دی ہے مولانا مودودی اسی کو اصل ترجمہ میں لے آئے ہیں۔
سورةالنساء
آیت۵۶: وَیَقُوْلُوْنَ سَمِعْنٰا وَعَصَیْنٰا
اور یہ کلمات کہتے ہیں سمعنا وعصینا کہتے ہیں سمعنا وعصینا
آیت ۱۰۴ اِبْتِغَاءِ الْقَوْمِ
مخالف قوم کے تعاقب کرنے میں اس گروہ کے تعاقب میں
سورة الاعراف
آیت۹۲: کَاَنْ لَّمْ یَغْنُوْا فِیْھَا
حالت یہ ہوئی جیسے ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہ تھے گویا کبھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے
آیت: ۱۲۶ رَبنَّا اَفْرِغْ عَلَیْنٰا صَبْراً
اے ہمارے رب ہمارے اوپر صبر کا فیضان کر اے رب ہم پر صبر کا فیضان کر
آیت :۱۵۷ وَعُزَّرُوْہُ
اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور اس کی حمایت کریں
آیت: ۱۹۰ فَلَمّٰا اَتٰھُمٰا صٰالِحاً
سو جب اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو صحیح وسالم اولاد دیدی مگر جب انسان کو ایک صحیح و سالم بچہ دیدیا
سورة الانفال
آیت:۸ یَحِقُّ الْحَقَّ وَیُبْطِلُ الْبٰاطِلَ
تاکہ حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا ثابت کردے تاکہ حق حق ہو کررہے اور باطل باطل ہو کررہ
جائے
آیت:۳۰ وَاِذًیَمْکُرْ بِکَ الَّذینَ کِفَرُوا لِیُثْبِتوُکَ
جب کہ کافر لوگ آپ کی نسبت تدبیریں سوچ رہے وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے جب کہ منکرین حق
تیرے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ آپ کو قید
کریںتھے کہ تجھے قید کردیں
سورة التوبة
آیت:۱۱۸ وَعَلٰی الثَّلاٰثَةِ الَّذینَ خُلِّفُواٰ
اور ان تین اشخاص کے حال پر بھی جن کا فیصلہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا اور ان تینوں کو بھی اس نے
معاف کیا جن کے معاملہ کو ملتوی کر دیا گیا تھا

سورة یوسف
آیت:۸ا اِنَّ اَبٰانٰا لَفی ضَلاٰلٍ مُبینٍ
ہمار ے اباجان بالکل ہی بہک گئے ہیں سچی بات یہ ہے کہ ہمارے ابا جان بالکل ہی بہک گئے ہیں
آیت:۶۰ فَاِنْ لَمْ تَأتُونی بِہ فَلاٰ کَیْلَ عِنْدی وَلاٰ تَقْربُونَ
اور اگر اس کو تم میرے پاس نہ لائے تو نہ میری پاس اگر تم اسے نہ لاو گے تو میرے پاس تمہارے
تمہارے نام کا غلہ ہو گا اور نہ تم میرے پاس آنا لئے کوئی غلہ نہیں بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا
سورة الکھف
آیت:۱۴ قُلُناٰ اِذاً شَطَطًا
ہم نے یقیناً بڑی بے جابات کہی اگر ہم ایسا کریں بالکل بے جابات کریں گے
سورة الانبیاء
آیت: اِنّی کُنْتُ مِنَ الظّٰالِمِینَ
میں بے شک قصور واروں میں ہوں بیشک میں نے قصور کیا
سورة الفرقان
آیت:۶۱ اَلَذَّینَ لاٰیَرْ جُونٰا لکقاءَ نٰا
جو لوگ ہمارے سامنے پیش ہونے سے اندیشہ نہیں کرتے جو لوگ ہمارے حضور
پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے
سورة الشعراء
آیت:۱۲۹۱۲۸، اَتَبْنُونَ بِکُلِّ ریعٍ آیةً تَعْبَثُونَ
کیاتم ہر اونچے مقام پر ایک یادگار بناتے ہو یہ تمہارا کیا حال ہے کہ ہر اونچے مقام پرلا حاصل ایک
جس کو محض فضول بناتے ہو یادگار عمارت بنا ڈالتے ہو
سورة القصص
آیت۳: نَتْلُوْا عَلَیْکَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰی وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ
ہم آپ کو موسیٰ اور فرعون کا کچھ حصہ ٹھیک ٹھیک پڑھ کرسناتے ہیں ہم موسیٰ اور فرعون کا کچھ حال
ٹھیک ٹھیک تمہیں سناتے ہیں
سورة عنکبوت
آیت۱۷: لاَّیَمْلِکُوْنَ لَکُمْ رِزْقًا
تم کو کچھ بھی رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے وہ تمہیں کوئی رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے
سورة الروم
آیت۴: لِلّٰہِ اْلاَمَرُ
اللہ ہی کا اختیار ہے اللہ ہی کا اختیار ہے
سورة لقمان
آیت۱۴: حَمَلَتْہُ اُمُّہ وَھْنًا عَلٰی وَھْنٍ
اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اس کو پیٹ میں رکھا اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا
سورة الاحزاب
آیت۱۰: وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ
کلیجے منہ کو آنے لگے تھے کلیجے منہ کو آگئے
آیت۳۲: الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہ مَرَضٌ
جس کے دل میں خرابی ہے دل کی خرابی کا مبتلا شخص
آیت ۴۲: وَسَبِّحُوْہُ بُکْرَةً وَّاَصِیْلًا
اور صبح شام اس کی تسبیح کرتے رہو اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہو
آیت۵۱: ذٰلِکَ اَدْنٰی اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُھُنَّ
اس میں زیادہ توقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اس طرح زیادہ توقع ہے کہ ان
کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی۔
سورة الفاطر
آیت۳۹: فَعَلَیْہِ کُفْرُہ
اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑ ے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر ہے
سورة یاسین
آیت۴۱: وَاٰیَةٌ لَّھُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَھُمْ فِی الْفُلَکِ الْمَشْحُوْنِ۔
اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ ہم نے ان کی ان کے لیے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ ہم نے ان کی نسل
اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کر دیا
سورة الصفت
آیت۱۵: وَقَالُوْا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ۔
اور کہتے ہیں یہ تو صریح جادو ہے اور کہتے ہیں یہ تو صریح جادو ہے
آیت۶۱: لِمِثْلِ ھٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰاِمُلْونَ۔
ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو
عمل کرنا چاہیے
آیت۸۳: وَاِنَّ مِنْ شِیْعَتِہ لَاِبْرَاہِیْمَ۔
اور نوح کے طریقے والوں میں سے ابراہیم بھی تھے اور نوح ہی کے طریقے پر چلنے والا ابراہیم تھا
آیت۱۶۱،۱۶۲: فَاِنَّکُمْ وَمَاتَعْبُدُوْنَo مَآ اَنْتُمْ عَلَیْہِ بِفَاتِنِیْنَo
سوتم اور تمہارے سارے معبود خدا سے کسی کو نہیں پھیر سکتے پس تم اور تمہارے یہ معبود اللہ
سے کسی کو پھیر نہیں سکتے
سورةص
آیت۱: صٓ وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ۔
ص قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے پُر ہے ص قسم ہے نصیحت بھر ے قرآن کی
آیت۲۲: وَلَاتُشْطِطْ
اور بے انصافی نہ کیجیے بے انصافی نہ کیجیے
آیت۷۵: مَامَنَعَلَک اَنْ تَسْجُدَ
اس کو سجدہ کرنے سے تجھ کو کون چیز مانع ہوئی تجھے کیاچیز اس کو سجدہ کرنے سے مانع ہوئی
سورة الزمر
آیت ۳۶: فَمَالَہ مِنْ ھَادٍ
اس کا کوئی حادی نہیں اس کے لیے پھر کوئی حادی نہیں
سورة المومن
آیت۵: وَھَمَّتْ کُلُّ اُمَّةٍ بِرَسُوْلِھِمْ لِیَاْخُذُوْہُ
اور ہرامت نے اپنے پیغمبر کے گرفتار کرنے کا ارادہ کیا ہر قوم رسول پر جھپٹی تاکہ اسے گرفتار کرے
آیت۲۶: اِنِّیْ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَکُمْ
مجھ کو اندیشہ ہے کہ وہ تمہار دین بدل ڈالے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ تمہارا دین بدل ڈالے گا
آیت۷۶: فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ۔
سومتکبرین کا وہ برا ٹھکانا ہے بہت ہی برا ٹھکانہ ہے متکبرین کا

سورةحم السجدة
آیت۳۵: وَمَایُلَقّٰھَآ
نصیب نہیں ہوتی ہے یہ صفت نصیب نہیں ہوتی
آیت۴۴: فِیْ اٰذَانِھِمْ وَقْرٌ
ان کے کانوں میں ڈاٹ ہے ان کے لیے یہ کانوں کی ڈاٹ ہے۔
آیت۵۱: فَذُوْدُعَآءٍ عَرِیْضٍٍ
تو خوب لمبی چوڑی دعائیں کرتا ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے
سورة الشوریٰ
آیت۱۶: حُجَّتُھُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ
ان لوگوں کی حجت ان کے رب کے نزدیک باطل ہے ان کی حجت بازی ان کے رب کے نزدیک
باطل ہے۔
آیت۳۳: فَیَظْلَلْنَ رَوَاکِدَ عَلٰی ظَھْرِہ
تووہ سمندری سطح پر کھڑے کھڑے رہ جائیں تویہ سمندر کی پیٹھ پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں
آیت۴۵: خَاشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ
مارے ذلت کے جھکے ہوئے ہوں گے تو ذلت کے مارے جھکے جارہے ہوں گے
آیت۴۵: الَّذِیْنَ خَسِرُوْا اَنْفُسَھُمْ وَاَھْلِیْہِمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ
جو اپنی جانوں سے اور اپنے متعلقین سے قیامت کے جنہوں نے آج قیامت ے دن اپنے آپ
روز خسارے میں پڑے۔ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈال دیا۔
سورةالزخرف
آیت۳: اِنَّاجَعَلْنَاہُ قُرْءٰ نًاعَرَیِبًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ۔
کہ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تا کہ تم سمجھ لو کہ ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا
تاکہ تم لوگ اسے سمجھو
آیت۱۰: لَّعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ۔
تاکہ تم منزل مقصود تک پہنچ سکو تاکہ تم اپنی منزل مقصود کی راہ پاسکو
آیت۲۳: اِنَّاوَجَدْنَا اٰبَآءَ نَا عَلٰی اُمَّةٍ
ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقہ پر پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایاہے
آیت۳۶: نُقَیِضْ لَہ شَطْاَنًا
ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے
سورة الجاثیہ
آیت۸: ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَکْبِرًا کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْھَا
پھر بھی وہ تکبر ہوتا ہے اس طرح اڑ رہتا ہے پھر پورے استکبار کے ساتھ اپنے کفر پر اسی طرح اڑا
جیسے ان کو سنا ہی نہیں رہتا ہے گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں
آیت۱۱: ھٰذَا ھُدًی
یہ قرآن سرتاہدایت ہے یہ قرآن سر اسر ہدایت ہے
سورة الاحقاف
آیت۱۵: حَمَلَتْہُ اُمُّہ کُرْھًا وَّ وَضَعَتْہُ کُرْھًا
اس کی ماں نے اس کو بڑی مشقت کے ساتھ پیٹ اس کی ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور
میں رکھا اور بڑی مشقت کے ساتھ اس کو جنا مشقت اٹھا کر ہی اس کو جنا
سورة الفتح
آیت۱: اِنَّا فَتَََحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا
بیشک ہم نے آپ کو کھلی فتح دی اے نبیہم نے تم کھلی فتح عطاکردی
آیت۶: الظَّآنِّیْنَ بِاللّٰہِ ظَنَّ السَّوْءِوَسَآءَ تَ مَصِیْرًا۔
جو اللہ کے ساتھ بڑے گمان رکھتے ہیں اور وہ جو اللہ کے متعلق بڑے گمان رکھتے ہیںجو بہت
بہت ہی برا ٹھکانہ ہے برا ٹھکانہ ہے
سورةق
آیت۷: وَاَلْقَیْنَا فِیْھَا رَوَاسِیَ
اور اس میں پہاڑوں کو جما دیا اور ہم نے اس میں پہاڑ جمادیئے
آیت۳۶: فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ
اور تمام شہروں کو چھانتے پھرتے تھے اور دنیا کے ملکوں کو انہوں نے چھان مارا
سورة الذاریات
آیت۳۱: فَمَا خَطْبُکُمْ اَیُّھَا الْمُرْسَلُوْنَ
ابراہیم کہنے لگےاچھا تو تم کو بڑی مہم کیا درپیش ہے ابراہیم نے کہااے فرستادگان الہی کیا مہم
آپ کو درپیش ہے
سورة الطور
آیت۳۳: اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَہ
ہاں کیا وہ یہ کہتے ہیں کہاانہوں نے اس خود گھڑ لیاہے کیا یہ کہتے ہیں کہ اس شخض نے یہ قرآن خود
گھڑ لیا ہے
سورة النجم
آیت۵۸: لَیْسَ لَھَا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کَاشِفَةٌ
کوئی غیر اللہ اس کا ہٹانے والا نہیں اس کے سوا کوئی اس کو ہٹانے والا نہیں
سورة القمر
آیت۶: یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیْءٍ نُّکُرٍ۔
جس روز ایک بلانے والا فرشتہ ایک ناگوار چیزکی طرف بلا دے گا جس روز پکارنے والا ایک سخت ناگوار چیز کی
طرف پکارے گا۔
سورة الرحمن
آیت۳۳: لَاتَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ۔
بدون زور کے نہیں نکل سکتے نہیں بھاگ سکتے اس کے لیے بڑا زور چاہیے
آیت۷۰: فَیْھِنَّ خَیْرَاتٌ حِسَانٌ
ان میں خوب سیرت وخوبصورت عورتیں ہونگی ان نعمتوں کے درمیان خوب سیرت اور
خوبصورت بیویاں
سورة الواقعة
آیت۳۵: اِنَّا اَنْشَاْ نٰھُنَّ اِنْشَآءً۔
ہم نے ان عورتوں کو خاص طور پر بنایا ہے ان کی بیویاں کو ہم خاص طور پر نئے سرے سے پیدا
کریں گے۔
سورة الحدید
آیت۹: ھُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰی عَبْدِہٓ اٰیَاتٍ بَیِّنِاتٍ لِّیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَی النُّوْرِ وَاِنَّ اللّٰہَ بِکُمْ لَرَئُوفٌ رَّحِیْمٌ۔
وہ ایسا ہے کہ اپنے بندہ پر صاف صاف بھیجتا ہے وہ اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں
تاکہ تم کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لادے نازل کر رہا ہے تا کہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی
اور بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے حال پر بڑا شفیق ومہربان ہے میں لے آئے اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر
نہایت شفیق اور مہربان ہے
آیت ۲۷: وَرَہْبَانِیَّةَ نِ ابْتَدَعُوْہَا
اور انہوں نے رہبانیت کو خود ایجاد کیا۔ اور رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کرلی۔
سورة المجادلہ
آیت۱۹: اِسْتَحْوَذَ عَلَیْھِمُ الشَّیْطَانُ
ان پرشیطان نے پورا تسلط کر لیاہے شیطان ان پر مسلط ہو چکا ہے
آیت۲۲: اُولٰئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ الْاِیْمَانَ
ان لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثبت کردیاہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے
ایمان ثبت کر دیا ہے۔
سورة الحشر
آیت۳: وَلَھُمْ فِیْ الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ۔
اور ان کے لیے آخرت میں دوزخ کا عذاب ہے اور آخرت میں ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے
سورة الممتحنہ
نوٹ:سورة الممتحنہ کی آیت:۶ میں دونوں جگہ اسوة حسنہ کا کلمہ آیاہے
آیت۴: قَدْکَانَتْ لَکُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْ اِبْرَاھِیْمَ
کاترجمہ تھانوی صاحب کرتے ہیں
”تمہارے لیےابراہیم میں ایک عمدہ نمونہ ہے“
مودودی صاحب فرماتے ہیں۔
”تم لوگوں کے لیے ابراہیم میںایک اچھا نمونہ ہے“
آیت۶: لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْھِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
مولانا تھانوی اس کا ترجمہ کرتے ہیں۔
”بیشک ان لوگوں میں تمہارے لیے یعنی ایسے شخص کے لیے عمدہ نمونہ ہےمولانا مودودی ترجمہ یہ کرتے ہیںانہی لوگوں کے طرز عمل میں تمہارے لیے اور ہر شخض کے لیے اچھا نمونہ ہےعمدہ نمونہ اور اچھا نمونہ دونوں ترجمے مولانا تھانوی نے کیے ہیںمولانا مودودی نے بھی یہی ترجمے اپنائے ہیں لیکن ان کوآگے پیچھے کر دیاہے
آیت۱۱: فَعَاقَبْتُمْ
پھر تمہاری توبت آوے اور پھر تمہارے توبت آئے

سورة الصف
آیت ۷: وَاللّٰہُ لَایَھْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ۔
اور اللہ ایسے ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا
سورة الجمعہ
آیت۸: ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَةِ
پھر تم پوشیدہ اور ظاہر جاننے والے کے پاس لئے جاوگے پھر تم اس کے سامنے پیش کئے جاو گے جو
پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے
سورة المنافقون
آیت۷: حَتّٰی یَنْفَضُّوْا
یہاں تک کہ یہ آپ ہی منتشر ہو جاویں گے تاکہ یہ منتشر ہوجائیں
سورة الطلاق
آیت۸: وَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّھَا وَرُسُلِہ
اور بہت سی بستیاں تھیں جنہوں نے اپنے رب کے کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب اور اس
حکم سے اور اس کے رسول سے سرتابی کی کے رسولوں کے حکم سے سرتاب کی
سورة التحریم
آیت۶: وَ یَفْعَلُوْنَ مَایُوٴْمَرُوْنَ۔
اور جوکچھ ان کو حکم دیاہے اس کو بجالاتے ہیں اور جو بھی حکم انہیں دیا جاتا ہے اسے بجالاتے ہیں۔
سورة الملک
آیت۳: فَارْجِعِ الْبَصَرَھَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ۔
سوتو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہ تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے پھر پلٹ کر دیکھو کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے
آیت۵: وَلَقَدْ زَیَّنَّاالسََّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَجَعَلْنٰھَا رُجُوْمًا لِّلْشَّیَاطِیْنِ
اور ہم نے قریب کے آسمانوں کو چراغوں سے آراستہ کر رکھا ہے ہم نے تمہارے قریب کے آسمان کو عظیم
اور ہم نے ان کو شیطانوں کے مارنے کاذریعہ بھی بنایاہے الشان چراغوں سے آراستہ کیاانہیں شیاطین کو
مار بھگانے کا ذریعہ بنایا۔
آیت۲۲: اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔
یا وہ شخص جوسیدھا ایک ہموارسڑک پر جارہا ہو۔ یاوہ جوسراٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہاہو۔
مولانا مودودی کے ترجمہ میں”سر اٹھائے سیدھا“ کے الفاظ مناسب نہیں ہیں۔
آیت۳۰: فَمَنْ یَّاْ ِتْیُکْم بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۔
یاو ہ کون ہے جو تمہارے پاس سوت کا پانی لے آئے تو کون ہے جو اس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں
تمہیں نکال کردلائے گا۔
سورة القلم
آیت ۳: وَاِنَّ لَکَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍ۔
اور بے شک آپ کے لیے ایسا اجر ہے جو ختم ہونے والا نہیں ہے اور یقینا تمہارے لیے ایسا اجر ہے جس کا
سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں
آیت۱۰: وَلَاتُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّھِیْنٍ۔
آپ کسی ایسے شخص کا کہنا نہ مانیں جو بہت قسمیں کھانے ہر گز نہ دبو کسی ایسے شخض سے جو بہت قسمیں
والاہوبے وقعت ہو کھانے والا بے وقعت آدمی ہے
آیت۳۲: اِنَّا اِلٰی رَبِّنَا رٰاغِبُوْنَ۔
ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں
آیت۴۳: تَرْھَقُھُمْ ذِلَّةٌ وَکقَدْا کَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ وَھُمْ سَالِمُوْنَ۔
ان پر ذلت چھائی ہوگیاور یہ لوگ سجدہ کی طرف تھے ذلت ان پر چھارہی ہوگییہ جب صحیح و
اس وقت بلائے جایاکرتے تھے اور وہ صحیح سالم تھے سالم تھے انہیں سجدہ کی طرف بلایا جاتا
تھا(اور یہ انکار کرتے تھے)
سورة الحاقة
آیت۷: سَخَّرَھَا عَلَیْھِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمَانِیَةَ اَیَّامٍ
جس کو اللہ تعالیٰ نے اس پرسات رات اور آٹھ دن متواتر مسلط کردیاتھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو مسلسل سات
رات اورآٹھ دن ان پر مسلط رکھا۔
سورةالمعارج
آیت۲: لِلْکَافِرِیْنَ لَیْسَ لَہ دَافِعٌ۔
جوکہ کافروں پر واقع ہونے والا ہے جس کاکوئی دفع کرنے والا نہیں۔ کافروں کے لیے ہے کوئی اسے
دفع کرنے والا نہیں۔
سورة نوح
آیت۴: اِنَّ اَجَلَ اللّٰہِ اِذَا جَآءَ لَایُوٴَخَّرُ
اس کا مقرر کیا ہواوقت جب آجاوے گا تو ٹلے گا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت
جب آجاتا ہے تو پھر ٹالانہیں جاتا۔
سورة الجن
آیت۱۲: وَلَنْ نُّعْجِزَہ ھَرَبًا۔
اور نہ بھاگ کر اس کو ہراسکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اسے ہرا سکتے ہیں
آیت۲۱: قُلْ اِنِّی لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا۔
آپ کہ دیجئے کہ میں تمہارے نہ کسی ضررکا اختیار کہو میں تم لوگوں کے لیے نہ کسی نقصان کا اختیاررکھتا رکھتاہوں اور نہ کسی بھلائی کا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا۔
آیت۲۷: فَاِنَّہ یَسْلُکُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہ رَصَدًا۔
تو اس پیغمبر کے آگے اور پیچھے محافظ فرشتے بھیج دیتا ہے تواس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے
آیت۲۸: وَاَحَاطَ بِمَا لَدَیْھِمْ
اوراللہ تعالیٰ کے تمام احوال کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور وہ ان کے پورے ماحول کا احاطہ کیے
ہوئے ہے۔
سورة المدثر
آیت۱۹: فَقُتِلَ کَیْفَ قَدَّرَ۔
سو اس پر خدا کی مار کیسی بات تجویز کی ہاں خدا کی مار اس پر کیسی بات بنانے کی کوشش کی
آیت۱۹: وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ۔
ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔
سورة النباء
آیت۳۶: جَزَآءً مِنْ رَّبِّکَ عَطَآءً حِسَابًا۔
یہ بدلہ ملے گا جو کہ کافی انعام ہو گا آپ کے رب کی طرف سے۔ جزاء اور کافی انعام تمہارے رب
کی طرف سے۔
آیت۳۸: یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلَائِکَةُ صَفًّا لَّایَتَکَلَّمُوْنَ اِلَّامَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ
جس دن تمام ذی ارواح اور فرشتے صف بستہ جس روز روح اور ملائکہ صف بستہ کھڑے
کھڑے ہوگے نہ بولے گا۔ ہوگے کوئی نہ بولے گا۔
کوئی بول نہ سکے گا بجز اس کے جس کو رحمان اجازت دیدے۔ سوائے اس کے جسے رحمان اجازت دے۔
سورة النازعات
آیت۳۹: فَاِنَّ الْجَحِیْمَ ہِیَ الْمَاْوٰی۔
سودوزخ اس کا ٹھکانا ہو گا۔ دوزخ ہی اس کا ٹھکانہ ہوگی۔
سورة العبس
آیت۱۲: فَمَنْ شَآءَ ذَکَرَہ
سو جس کا جی چاہے اسے قبول کرلے۔ جس کا جی چاہے اس قبول کرلے۔
آیت۱۳: فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَةٍ۔
وہ ایسے صحیفوں میں ہے جو مکرم ہیں۔ یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں۔
آیت۲۶:ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا۔
پھر عجیب طور پر زمین کو پھاڑا پھر زمین کو عجیب طرح پھاڑا
آیت۳۳: فَاِذَا جَآءَ تِ الصَّآخَّةُ۔
پھر جس وقت کانوں کا بہر کر دینے والا شور برپا ہوگا۔ آخر کا ر جب وہ کان بہرے کردینے والی
آواز بلند ہوگی۔
سورة الضحی
آیت۸: وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغْنٰی۔
اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو نادار پایا سو مال دار بنادیا۔ اور تمہیں نادار پایا اور پھر مال دار کردیا۔
آیت۹،۱۰: فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَاتَقْھَرْo وَاَمَّا السَّائِلَ فَلَاتَنْھَرْ۔
تو آپ یتیم پر سختی نہ کیجیے اور سائل کو مت جھڑکئے۔ لہذا یتیم پر سختی نہ کرو اور سائل کو نہ جھڑکو۔
سورة الم نشرح
آیت۳: وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ۔
اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا آواز بلند کیا۔ اور تمہاری خاطر تمہارے ذکر کا آواز بلند کردیا۔
سورة الزلزال
آیت۱: اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَھَا۔
جب زمین اپنی سخت جنبش سے ہلادی جائے گی۔ جب زمین اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلادی جائے گی۔
سورة الھمزة
آیت۷: الَّتِی تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَةِ۔
جو دلوں تک جاپہنچے گی۔ جو دلوں تک پہنچے گی۔
سورة الھب
آیت۳: سَیَصْلٰی نَارًا ذَاتَ لَھَبٍ۔
عنقریب وہ ایک شعلہ زن آگ میں داخل ہوگا۔ ضروروہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا۔


عبدالحئی عابد
Admin

Posts : 21
Join date : 11.11.2010
Location : سرگودھا،پاکستان

View user profile http://islamiat.forumur.net

Back to top Go down

Back to top


 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum