اسلامک ریسرچ فورم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
اسلامک ریسرچ فورم شعبہ علوم اسلامیہ ، جامعہ سرگودھا میں خوش آمدید۔
ازراہ کرم آپ سب سے پہلے فورم پر اپنی رجسٹریشن کا اہتمام کریں تاکہ فورم کے تمام گوشوں تک آپ کی رسائی ہوسکے۔ شکریہ

اردو میں تحقیقی مقالہ نگاری کے جدید تر اور سائنٹیفک اصول ۲

Go down

اردو میں تحقیقی مقالہ نگاری کے جدید تر اور سائنٹیفک اصول ۲

Post  عبدالحئی عابد on Sun Nov 28, 2010 5:57 pm

اردو میں تحقیقی مقالہ نگاری کے جدید تر اور سائنٹیفک اصول

۔ مجموعہ مضامین اور رسائل میں مطبوعہ مظامین کے حوالے:

مجموعہ مضامین یا رسالے میں شائع ہونے والی تحریروں کا حوالہ، حاشیے اور کتابیات میں درج ذیل کے مطابق ہونا چاہیے۔ مثلا پروفیسر رفیعہ شبنم عابدی نے ایک مضمون "" فن ترجمہ نگاری"" ، چند مباحث کچھ معروضات "" لکھا، جو ایک رسالے '' نئی کتاب'' (دہلی) کے شمارہ (1) ، اپریل ۔ جون 2007 ء میں صفحہ 59 تا 70 میں شائع ہوا۔ اس مضمون کا اور کسی بھی رسالے میں شائع ہونے والی کسی بھی تحریر کا حوالہ اس طرح دیا جائے گا۔
عابدی ، پروفیسر رفیعہ شبنم ، ص 61
لیکن اگر اس مصنف کی دیگر تحریرین بھی استعمال میں آئی ہیں تو یہاں حوالہ اس طرح ہو گا۔
عابدی ، پروفیسر رفیعہ شبنم ،2007 ء، ص 61
اور اگر عابدی نامی کسی اور مصنف کا اندراج "" فہرست اسناد محولہ مین نہیں ، تو یہ حوالہ صرف اس قدر بھی کافی ہیں۔
عابدی ، ص 61 ؛ یا عابدی ، 2007 ء ، ص 61
کتابیات یا "" فہرست اسناد محولہ "" میں یہ حوالہ اس طرح درج ہو گا۔
عابدی پروفیسر رفیعہ شبنم، 2007 ء، " فن ترجمہ نگاری ، چند مباحث کچھ معروضات '' ، مشمول : نئی کتاب ( دہلی) شمارہ 1، اپریل۔ جون 2007 ء، ص 59-70
یہ اہتمام اور اسی تفصیلات اخبار میں شائع ہونے والی تحریروں کے لیے بھی اسی طرح ہوں گی۔ مثلا محمود شام نے ایک مضمون بعنوان " موجودہ آئینی بحران " تحریر کیا جو اخبار روزنامہ "جنگ" (کراچی) کی اشاعت 25 اپریل 2007 ء کو صفحہ 6 پر شائع ہوا۔ اس کا حوالہ اس طرح دیا جائے گا۔
شام ، ص 6
لیکن " فہرست اسناد محولہ " میں اس طرح درج کیا جائے گا:
شام ، محمود ، 2007 ء ، " موجودہ آئینی بحران " مشمولہ : جنگ (کراچی) 28 اپریل ، ص 6
اگر کسی مجموعہ مضامین میں شائع ہونے والے کسی مضمون کا حوالہ دینا ہو اور مضمون نگار اور مجموعہ مضامین کا مرتب ایک ہی ہو تو حاشیے میں:
ندوی ، سید ، ریاست علی، ص 247
اور " فہرست اسناد محولہ" میں:
ندوی ، سید ریاست علی، 2001 ، پٹھانوں کی تاریخ کے مآخذ مشمول عہد اسلامی کا ہندوستان تحقیقات لاہور ص 264-279
اگر مضمون نگار اور مرتب مضامین مختلف ہوں تو یہ حوالہ حاشیے میں اس طرح دیا جائے گا۔
عابدی ، پروفیسر سید امیر حسن، ص 205
اور اگر اس مضمون نگارکا کوئی ماخذ بھی استفادے میں آیا ہے تو اس حوالے میں نام کے بعد سن اشاعت درج ہوگا ۔ مثلا
عابدی، پروفیسر سید امیر حسن، 1984ء، ص 205
اس مصنف کی یا عابدی نامی کسی مصنف کی کوئی اور تحریر استفادے میں نہیں آ ئی تو یہ حوالہ صرف اس قدر دیا جاءے گا:
عابدی، ص 205
مگر"فہرست اسناد محولہ" میں یہ حوالہ اس طرح مکمل درجہ ہو گا:
عابدی، پروفیسر سید امیر حسن، 1984، "ایران کا سماجی اور فارسی ادب" مرتبہ ڈاکٹر شریف حسین، قاسمی، انڈوپرشین سوساءٹی ، دہلی ص 201-212

4.2.12 تراجم کے حوالے

قبل ازین درج بالا عنوان"ترتیب و تدوین کا حوالہ، مصنف کے نام سے یا مرتب کے نام سے؟" کے تحت لکھا جا چکا ہےکہ مرتب اور مترجم کا حوالہ اصل مصنف کی جگہ پر یااصل مصنف کے طور پر ہر گز نہ دیا جاءے گااور ان دونوں کا حوالہ ، صرف حاشیے میں اور اسی طرح"فہرست اسنا د محولہ" میں اسی وقت آۓ گا جب ان کی ذاتی کاوش ، مثلا مقدمہ ، یا حواشی، و تعلیقات وغیرہ استفادے میں نہ آئیں ۔
اگر کتاب ترجمعہ ہو تو حاشیے میں اس کا ذ کر ضروری نہیں۔ اس کا حوالہ مذکورہ بالا صورتوں کے مطابق ، یہاں دیگر مآخذ کے ھوالوں کی طرح دیا جاءے گا۔ مثلا
مشیر الحسن، ص 256، یا مشیر الحسن ، 2006ء، ص 252
لیکن کتابیات میں یہ حوالہ اس تفصیل کے ساتھ درج ہو گا:
مشیر الحسن، 2006 ، "دہلی کے مسلمان دانش ور(انیسویں صدی میں) اردو ترجمعہ ، از’ A Moral Reckoning Muslim Intellectuals In Nineteenth Century”
مترجم : مسعود الحسن ، انجمن ترقی اردو، دہلی
یا اگر مضامین کا مجموعہ ہو اور استفادہ شدہ مضمون کا اصل عنوان بھی معلوم ہو تو وہ بھی ساتھ ساتھ لکھا جاۓ گا، لیکن ایسا شاذ ہی ہوتا ہے، چنانچہ صرف کتاب یا اصل عنوان رومن رسم الکط یا جس زبان سے ، جیسے فارسی، عربی یا کسی اور زبان سے ترجمہ کیا گیا ہو، اس کے رسم الخط میں لکھ دینا چاہیے۔
استفادہ شدہ مضمون کا حوالہ اس طرح دیا جاۓ گا:
تنگ، ص 487
لیکن" فہرست اسناد محولہ" میں اندراج اس طرح ہو گا:
تنگ، داؤد - سی-ایم، 1958 ، " اسلامی ثقافت چین میں " ، ترجمہ


از “Islamic Civilization In Chin” مشمولہ: "اسلام ، صراط مستقیم " ترجمہ از Islam The Straight Path” مترجم : غلام رسول مہر، موسسہ، مطبوعات فرینکلن، لاھور، اشاعت دوم، ص519-685
اس اہتمام کے ساتھ ساتھ یہ بھی بہتر ہے، خصوصا "فہرست اسناد محولہ" میں کہ مغربی مصنفین کے ناموں کے تلفظ میں کسی سہو سے بچنے کے لیے جب بطور مصنف ان کا نام لکھا جاۓ تو قوسین میں رومن میں لکھ دیا جاۓ ۔ مثال کے طور پر:
موسلے، لیونارڈ، (Musleye Leonard)، 1962 ، Last Days Of British RaJ لندن
مورلینڈ- ڈبلیو، ایچ (Moreland, W,H) م 1920ء، “ India At The Death of Akbar” ، نیو یارک
یہ عمل ناموں کے اصل تلفظ کے تعین کے لیے اور اس لیے بھی مفید ہے کہ ان ناموں کو اگر کسی اور جگہ ، مثلا کتابیات، کتب خانوں، وغیرہ میں تلاش کرنا ہو تو درست ہجوں میں انہیں آسانی سے تلاش کیا جا سکے۔

4.2.13 حاشیے اور تعلیق کا فرق

حاشیہ، جو چاہے پاورقی یا باب یا کتاب / مقالے کے آخر میں شامل کیا جاے، بالعموم متن یا مباحث کے تعلق سے اپنے مزید یا اضافی خیالات یا معلومات کو پیش کر کے اس متن یا مباحث کو زیادہ سے زیادہ جامع، معلوماتی، مکمل اور مفید بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں تعلیق ان اضافی یا زاءد معلومات پر مشتمل ہوتی ہے جو متن یا نفس مضمون مین تشنہ رہتی ہیں۔ حاشیے میں متن یا مباحث کے تعلق سے اختلاف بھی کرتا ہے اور اس کے لیے دلائل اور شواہد و اسناد بھی پیش کرتا ہے، جبکہ وہ متعلقہ مباحث سے اتفاق کرتے ہوۓ، مزید دلائل و شواہد بھی اس کے حق میں پیش کر سکتا ہے۔
تعلیق میں اتفاق یا اختلاف کی گنجائش کم ہوتی ہے، لیکن بنیادی طور پر یہ تشنہ معلومات یا معلق معلومات کو اس طرح پڑھنے والوں تک پہنچاتی ہے کہ متن، موضوعات اور مباحث کے تعلق سے کوئ تشنگی باقی نہ رہے۔
جب مقالہ لکھتے ہوۓ متن یا موضوعات بحث کے تعلق سے سند یا استناد کو پیش کرنا ہو ، یا اضافی معلومات، خصوصا ترتیب متن میں یہ مسایل پیش کرناہو تو تعلیق سے یہ کام لینا ہوتا ہے۔ اس لیے ان دونوں کے فرق کو اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہیے تا کہ حاشیے اور تعلیق کی اپنی اپنی مناسبت سے ہی ان سے کام لیا جاۓ اور کو‏‏ئ سہو نہ ہو

4.2.14 ترتیب و تدوین متن کے تقاضے:

ادبیات میں متن کی ترتیب و تدوین ایک نہایت اہم مسلہج ہے ادب کے مطالعے میں متن کی تحقیق ، اس کی درست قرات اور پھر اس کی تصیح و ترتیب کی بے حد اہمیت ہے۔ جب تک کہ متن کو صحت کے ساتھ پڑھا نہ جاۓ اور درست متن پیش نظر نہ ہو تو اس متن یا اس کے خالق کے بارے میں دیانت دارانہ اور معیاری راۓ دینا ممکن نہیں۔ یا ان تقاضوں کا لحاظ رکھے بغیر کو‏ئ راۓ دی جاۓتو وہ معیاری اور درست نہ ہوگی۔

4.2.14.1 قدیم متن کا املا اور اس کے مسائل

قدیم اور کلاسیکی متن کو مرتب اور شائع کرنا مقصود ہو تو اسے سب سے پہلے صحت کے ساتھ نقل کرنا ضروری ہے، اس ضمن میں املا کے تعلق سے یہ مسلہ اہم ہوتا ہے کہ اسے بعینہ اصل متن کے مطابق رکھاجاۓ یا آج کے مروجہ اصولوں کے مطابق تبدیل کر دیا جاۓ ؟ اگر یہ حقیقت پیش نظر رہے کہ متن کو آج کے قاری کے لیے قابل مطالعہ بنانا ہے تو اسے مروجہ املا کے مطابق تبدیل یا تحریر کرنا بہتر ہے۔ تا آنکہ خود املا پر تحقیق یا وہ املا خودزیر بحث نہ ہو اور نمونے یا مثال کے کام نہ آۓ ۔ تب بھی اصل املا، جسے مصنف یا کاتب نے اختیار کیا ہے، موضوع بحث سے متعلق اس کی مثالیں بطور حوالہ اقتباس دی جا سکتی ہیں۔ اس لیے متن کو مروجہ املا ہی کے مطابق تحریر کرنا مناسب ہے۔ جسے اٹھارویں صدی کے آخر میں بلکہ انیسویں صدی کے آغاز میں بھی اردو رسم الخط میں بالعموم "گ' کو ایک مرکز کے ساتھ لکھا جاتا تھا۔ "ٹ" کے اوپرچھوٹی "ط" کا رواج انیسویں صدی میں شروع ہوا۔ اس سے قبل 'ت' پر چار نقطے لگاکر ٹ کا کام لیا جاتا تھا ۔ ڑ اور ڈ کو ط کے بغیر لکھا جاتا تھا۔ یاۓ معروف و مجہول میں بالمعموم تمیز نہیں کی جا سکتی تھی۔ اس طرح کے معاملات کی وجہ سے بہتر یہی ہے کہ املا کو آج سے مروجہ اصولون کے مطابق تحریر کیا جاۓ

4.2.14.2 ترتیب و تدوین متن

یہ فیصلہ کہ قدیم متن کو صحت کے ساتھ کس طرح نقل کیا جاۓ ؟ اس وقت دشوار ہو جاتا ہے جب اس متن کو کوئ دوسرا نسخہ دستیاب نہ ہو ۔ بہت سے متون ، جن کے صرف منحصر بہ فرد نسخے دستیاب ہیں اور کسی دوسرے نسخے کا علم نہیں یا وہ دسترس میں نہیں ، تو بالعموم ، اس کی زبان کی قدامت ، املا کی مختلف صورتوں یا خط کی خرابی یا شکستگی کے سبب اس متن کا پڑھنا دشوار بلکہ کبھی کبھی نا ممکن ہو جاتا ہے اور جو کچھ پڑھا گیا ، اسی پر انحصار کرنا پڑ جاتا ہے۔ اس طرح یہ یقینی نہیں رہتا کہ جو کچھ پڑھا گیا وہ مکمل طور پر درست ہے۔ اردو میں اس قسم کے متن کی عمدہ مثال نظامی دکنی کی مثنوی "کدم راوپدم راو" (مرتبہ ڈاکٹر جمیل جالبی، انجمن ترقی اردو، کراچی 1973) اور فارسی میں مثنوی "وامق و عذرا" (مرتبہ مولوی محمد شفیع ، پنجاب یونیورسٹی ، لاہور، 1966) کی پیش کی جاسکتی ہے، جن کے واحد نسخے دستیاب ہوۓ اور مرتبین نے محض دستیاب نسخے کو اپنی بساط کی حد تک پڑھ کر مرتب کیا۔
یہ مثالیں منحصر بہ فرد متون کی ہیں اور ان کی حد تک سواۓ املا کے مذکورہ معاملات کے کو‏ئ اور شرط لگائ نہیں جا سکتی ۔ لیکن جن متون کے ایک سے زیادہ نسخے موجود ہوں۔ تو صحت متن کا تقاضا ہے کہ تمام نسخوں کا متن سامنے رکھا جاۓ اور جو متن سے سے مکمل، درست اور قابل لحاظ ہو اسے بنیاد بنا کر اس کا مقابلہ دیگر متون سے کر کے متن کو ترتیب دینا چا ہیے۔ اس عمل میں بنیادی متن کے مقابلے میں جس جس متن مین اختلاف نسخ یا متن کا باہمی فرق یا اختلاف نظر آۓ ، اسے حاشیے میں متعلقہ نسخے ے حوالے سے واضح کر دینا چاہیے ، لیکن جو فرق یا اختلاف معنوی اعتبار سے اور لفظی و لسانی اعتبار سے بنیادی متن میں درست معلوم نہ ہوتا ہو ، تو اس مقام پر جزوی تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ مگر حاشیے میں اس تبدیلی کا جواز پیش کرنا ضروری ہے۔ یہ عمل تحقیق متن کے زمرے میں آتا ہے۔
ترتیب متن میں یہ اہتمام نہایت ضروری ہے، ورنہ کو‏ئ ایسا متن جس کے ایک سے زیادہ نسخے موجود اور دستیاب ہیں لیکن انہیں پیش نظر نہ رکھا جاءے یا تمام نسخے پیش نظر نہ رکھے جائیں اور تقابی جائزے اور اختلاف نسخ کی نشاندہی نہ پایا جاۓ! اس طرح کسی متن کے جتنے زیادہ نسخے موجود ہوں اور ترتیب متن کے لیے انہیں پیش نظر رکھ ا جاۓ تو وہ تیار شدہ متن زیادہ درست اور معیاری ہو گا۔

اردو میں اگر تحقیق و ترتیب متن کی ، مثلا نثر میں محض ایک عمدہ مثال کوئ منتخب کی جاۓ تو وہ میرا من دہلوی کی داستان " باغ و بہار" مرتبہ رشید حسن خان (مطبوعہ انجمن ترقی اردو ، دہلی ،1992) ہو سکتی ہے۔ اور فارسی میں اگر شعری متن کی کوئ بہت عمدہ مثال کا انتخاب کرنا ہو تو میرٰی نظر میں وہ مثنوی "طریق التحقیق" منسوب بہ سنائ غزنوی، مرتبہ بواتاس(Bo Utas) (مطبوعہ اسٹوڈنٹ لٹریچر ، لند[سویڈن] 1973) نثر اور نظم میں ان دونوں مرتبہ متون کو اس نقطہ نظر سے دیکھنا چاہیے کہ عمدہ ترتیب و تدوین متن کس طرح ہونی چاہیے؟ دراصل متن کو اس طرح مرتب ہونا چاہیے کہ اس سے متن کی تاریخ بھی سامنے آ جاۓ، متن اور مصنف کے بارے میں تمام متعلقہ معلومات یکجا ہو جائیں اور اس متن کے دیگر تمام تسخے مطبوعہ اور غر مطبوعہ کے تقابلی مطالعے کے بعد اکتلاف نسخ کی نشاندہی ہو اور پھر وہ متن مرتب ہو

4.2.15- پیرا گراف کی بندش

ڈیجیٹل تصورات اور کمپیوٹر کے اثرات سے جو انقلابات اور تبدیلیاں زندگی کے ہر گوشے میں رونما ہو رہی ہیں ، ان سے ہماری تحریر اور اس کا اسلوب بھی متاثر ہورہے ہیں ۔ ڈیجیٹل تصورات کے تحت اب ہم زندگی اور اس کی اقدار کو قطار و شمار میں دیکھنے کے عادی ہو رہے ہیں۔ اور ہندسوں کی اہمیت ہماری زندگی اور اس کے معمولات مین بڑھتی جارہی ہے، تحریر اور اسلوب میں اگر اس تبدیلی کو ملحوظ رکھا جاۓ تو اس کا ایک اظہار پیرا بندی میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، اب جو کچھ لکھا جا رہا ہے، اس کی بہتر تفہیم و ابلاغ کے لیے پیرا گرافوں پر ایک تو عنوان درج کرنے کا التزام بڑھ گیا ہے اور دوسرے ان پیرا گرافوں پر کو شمار کرنا بھی ضروری سمجھا جا رہا ہے تا کہ جو کچھ لکھا جا رہا ہے وہ عنوانات کے توسط سے پڑھنے والا نفس مضمون تک فوری لے جا سکے یا عنوانات کےذریعے پڑھنے والے نفس مضمون کو فوری بھانپ لے اور ابلاغ تیز تر اور آسان ہو یا سہولت ہو جاۓ اور ساتھ ہی ہر عنوان یا پیراگرافوں اور ان کے ذیلی پیروں کو نمبر شمار کے سلسلے سے آپس میں ایک دوسرے سے جوڑ دیا جاۓ تا کہ حوالہ دینے میں یہ الزام پیدا ہو جاۓ کہ سلسلہ نمبر کے زریعے فورا متعلقہ پیرے تک رساءی ممکن ہو جاۓ ۔ پہلے یہ حوالہ صفحہ یا زیادہ سے زیادہ اگر اہتمام کیا گیا اور وہ بھی اشد ضروری سمجھا گیا تو سطر نمبر کا اہتمام کر لیا گیا، لیکن اب ، خصوصا" مقالات میں جو ایک جگہ ہی نہیں زیادہ مقامات پر بھی چھپ سکتے ہیں ، مقامات کی تبدیلی کے باوجود پیرا گراف کے سلسلہ نمبر کے ذریعے فوری اور یقینی طور پر پڑھنے والوں کو متعلقہ مقام تک پہنچا سکیں۔ اس عمل کے ذریعے ایک کتاب کے تمام ابواب کو اور پھر ان ابواب کے تمام پیراگرافوں کو با ہم ایک سلسلہ شمار سے آپس میں پیوست کر دیا جاتا ہے۔ اور یہی اہمتمام مجموعہ مقا لات کے لیے بھی کیا جاتا ہے،

پیراگرافوں پر سلسلہ نمبر درج کرنے کے عمل و اہتمام کی حکمت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کا سب سے بڑا فاءدہ حوالہ دینے کی اور متعلقہ یا مطلوبہ مقام تک پہنچنے کی فوری سہولت ہے، چنانچہ اس مقصد سے اور پھر اس کا نمونہ پیش کرنے کی غرض سے زیر نظر مقالے کو اس التزام کے ساتھ پیراگرافوں پر سرخیوں اور سلسلہ نمبر کے ساتھ ترتیب دیا گیا ہے۔

4.2.16 کتابیات کی ترتیب اور اسکے تقاضے:

4.2.16.1 کتابیات کی اصطلاح اور اس اک مفہوم:

کتابیات کی اصطلاح اس فہرست کتب و مقالات کے لیے استعمال ہوتی ہے، جو۔۔۔ کسی خاص مقصد کے لیے مرتب کی جاتی ہیں۔ اس مقصد میں عام طور پر مو ضوعات کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ اس مین کسی شخصی حوالے، کتب خانے، ذخیرے یا کسی اور مناسبت سے بھی کتابیں ، مقالات اور دیگر نوعیتوں کا مواد شامل ہوتا ہے، ایسی کتابیات فہرستوں کے انداز سے مرتب ہوتی ہیں، جن کی فنی اور نوعی خصوصیات الگ الگ بھی ہو سکتی ہیں ، جیسے عنوان کے لحاظ سے، موضوعات کے لحاظ سے یا مصنفین کے لحاظ سے اور یہ مختصر بھی ہوتی ہے اور صخیم اور کئ کئ جلدوں پر مشتمل ہوتی ہے، ایک مستقل فہرست کے ساتھ ساتھ کتابیات کتابوں اور مقالات کے آخر میں بھی شامل ہوتی ہیں۔ اس میں وہ مآخذ شامل ہوتے ہیں، جو اس مقالے یا کتاب میں بطور معاون استعمال ہوءے ہیں۔ یہ ضروری بھی ہوتا ہےکہ اس طرح کی ایک جامع فہرست مرتب کی جاۓ تا کہ کتاب یا مقالے کے مآخذ اور ان کی تفصیلات کا علم ہو سکے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عام کتابیات ، جو مستقل اور کتابی صورت میں شائع ہوتی ہیں، ان میں اور کسی کتاب یا مقالے کے آخر میں شامل کی جانے والی فہرست مآخذ میں کوئ فرق ہوتا ہے؟جواب یہ ہے کہ یہ فرق بہت واضح ہے۔ کتاب اور مقالے میں شامل فہرست ایک محدود مقصد کے تابع ہے اور صرف اس مقالے یا کتاب کے مطالعے میں معاونت کے حوالے تک محدود رہتی ہے اور اس اعتبار سے دراصل یہ ان مآخذ اور اسناد کی فہرست ہی ہوتی ہے جو حوال ےمیں استعمال ہوتے ہیں اس لیے یہ کتابیات کے وسیع تر اور مختلف مفہوم کے مقابلے میں اپنی نوعیت اور خصوصیت کی مناسبت سے دراصل " فہرست اسناد محولہ" پر مشتمل ہوتی ہے، جو مطالعے کے دوران معاونت و استفادے میں آۓ۔ اس لحاظ سے میں کسی کتاب ، مقالے یا مطالعے میں بطور حوالہ استعمال یا استفادے میں آنے والے مآخذ یا استاد کی فہرست کو" کتابیات" کے بجا‎ۓ اسناد محولہ کی فہرست یا "فہرست اسناد محولہ" کہنا زیادہ با معنی اور جائز و مناسب سمجھتا ہوں اور اپنی ہر کتاب یا مقالے میں یہی اصطلاہات استعمال کرتا رہا ہوں ۔ غالبا اس کو اولا" میں نے اشتیاق حسین قریشی کی کتاب " برعظم پاک و ہند کی ملت اسلامیہ " (مطبوعہ شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ ، کراچہ یونیورسٹی ، 1967) میں دیکھا تھا ۔ اس کی معنویت کے لحاظ سے اور موزونیت کی مناسبت سے میں کسی کتاب یا مقالے مین شامل " کتابیات" کو " فہرست اسناد محولہ" کے طور پر استعمال کرنے پر اصرار کو جائز سمجھتا ہوں۔

4.2.16.2" فہرست اسناد محولہ" اور اس کی ترتیب:

تمام مآخذ جو مطالعے میں معاون رہے ہیں، ان کی تفصیلات پر مشتمل فہرست مرتب کرنا ضروری ہے، تا کہ مآخذ کے بارے میں پوری معلومات حاصل ہو سکیں۔ یہ تفصیلات اور معلومات ہر نوع کے مآخذ کے بارے میں درج ہونی چاہیں۔ نوعیت کے لحاظ سے مآخذ کی کئ قسمیں ہوتی ہیں۔ اور ان کی نوعیت کے لحاظ سے ان کو اقسام میں ترتیب دیے جانے کا عمل عام رواج میں ہے۔ مثلا تمام بنیادی اور عصری مآخذ ایک نوعیت کے ہونے کی وجہ سے انہیں بنیادی مآخذ کے ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ اس میں عام طور پر غیر مطبوعہ اور نادر مآخذ شامل ہوتےہیں۔ مثلا مخطوطات یا غیر مطبوعہ مواد، معاصر دستاویزات ، ذاتی کاغذات اور مراسلت وغیرہ شامل ہوتےہیں۔ باقی تمام مآخذ ثانوی مآخذ کے ذیل میں شمار ہوتے ہیں۔ اور ان مین موضوع سے متعلق تقیقی و تنقیدی مطالعات اور جائزے شامل ہوتے ہیں۔ اس طرح بنیادی اور ثانوی مآخذ ساتھ ساتھ کتب حوالہ یعنی انساءیکلوپیڈیا ، لغات فرہنگیں، گزٹیر وغیرہ کو ایک ذیلی تقسیم کے تحت درج کرنے کا رحجان بھی نظر آتا ہے۔ پھر ایک رحجان رسائل و جرائد ، انٹرویو اور انٹر نیٹ کی معلومات کو علیحدہ ترتیب دینے کا بھی موجود ہے۔
"فہرست اسناد محولہ" کو بنیادی اور ثانوی مآخذ کے لحاظ سے تقسیم کر کے ترتیب دینے میں جہاں بظاہر ایک سہولت اور فائدہ نظر آتا ہے وہیں اس کے نقصانات بھی سامنے ہیں۔ اگر یہ امر ملحوظ رہے کہ ہمیں کم سے کم وقت میں اور کسی دشواری اور رکاوٹ کے بغیر اپنے مطلوبہ ماخذ اور اس کی تفصیلات تک پہنچنے میں آسانی میسر آنی چاہیے۔ لیکن اگر " فہرست اسناد محولہ" مندرجات اور ان کی نوعیت کے لحاظ سے تقسیم ہو، جیسے" بنیادی مآخذ " ، "ثانوی مآخذ"، "کتب خوالہ" ، " مطبوعہ"، "غیر مطبوعہ" اور زبانوں کے لحاظ سے تقسیم شدہ تو اپنی ضرورت کے لحاظ سے شاید ہمیں اپنے مطلوبہ مآخذ اور اس کے تفصیلات تک پہنچنے کے لیے اس فہرست کے ہر گوشے کا جائزہ لینا اور اپنا مطلوبہ ماخذ تلاش کرنا ہو گا اور اگر ہمیں اپنے مطلوبہ مآخذ کی نوعیت کا پوری طرح علم یا اندازہ نہ ہو تو پھر مزید وقت اور محنت بھی درکار ہو گی ۔ لیکن اگر یہ فہرست ایک ہی ہو اور حروف تہجی کے اعتبار سے مرتب ہو تو تقسیم شدہ فہرست کے مقابلے میں زیادہ با سہولت ہو گی۔ ایک مربوط اور مسلسل فہرست میں ہم اپنے مطلوبہ مآخذ کو جلد تلاش کر سکیں گے۔ مذکورہ بالا تقسیم کے تحت مرتبہ فہرست میں ہمیں اپنا مطلوبہ ماخذ ہر گوشے میں تلاش کرنا پڑے گا اور خاص طور پر اس وقت جب ہمیں اپنے مطلوبہ ماخذ کی نوعیت کا علم نہ ہو۔ یہ مسئلہ اس وقت مزید دشوار ہو جائے گاجب کسی ماخذ کی نوعیت کے تعین میں مصنف اور قاری کے درمیان مطابقت نہ ہو۔ لہذا بہتر یہی ہےکہ فہرست اسناد کو نوع در نوع تقسیم نہ کیا جائے۔ یہ ایک ہی مکمل فہرست ہو جس میں ہر طرح کے ماخذ اور ہر نوعیت کے ماخذ مصنف کے ناموں کے ذیل میں ، جو حروف تہجی کے لحاظ سے مرتب ہوں ترتیب دی جائے۔ ہر حوالے یا فہرست کے مصنف وار ہونے پر جو دلائل اس کی افادیت کے متعلق ہیں یہاں انہیں پیش نظر رکھا جائے۔
4.2.16.3"فہرست اسناد محولہ" کی نئی ظابطہ بندی:

آج، جدید سائنٹی فک اصولوں اور ڈیجیٹل تصورات کے تحت "فہرست اسناد محولہ" کی ترتیب میں جو اہتمام کیا جا رہا ہے وہ ماضی کے مقابلے میں خاصا بدل چکا ہے۔ چونکہ ہر جگہ اختصار کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے، جس کی کچھ متعلقہ مثالیں اوپر حواشی اور حوالے کے ذیل میں دی گئی ہیں۔ ان کی مناسبت سے اب "فہرست اسناد محولہ" کو اسی طرح ترتیب دیا جا رہا ہے۔ جو حوالے اور حاشیے مکے مذکورہ نئے طریقوں سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے گزشتہ دو تین دہائیوں سے اس فہرست کی ترتیب اب اس طرح کی جانے لگی ہے۔ سب سے پہلے مصنف کا نام، اس کے آخری جزو کے ملحوظ رکھ کر، پھر سن طباعت، تاکہ پہلی ہی نظر میں حوالے یا حاشیے میں درج ہونے والے دو بنیادی جزو نظرمیں آ جائیں۔ پھر کتاب کا نام، ناشر کا نام (جو بہت ضروری بھی نہیں) اور پھر شہر کا نام۔ مثال کے طور پر اگر ہمیں سید سلیمان ندوی کی تصنیف" عرب و ہند کے تعلقات" کا اندراج کرنا ہو جو ہندستانی اکیڈمی، الہ آبادسے 1950 میں شائع ہوئی تھی تو "فہرست اسناد محولہ" کی نئی ضابطہ بندی کے تحت اندراج یوں ہو گا۔
ندوی، سید سلیمان، 1950ء،"عرب و ہند کے تعلقات"، ہندستانی اکیڈمی، الہ آباد۔
اور اگر اسی مصنف کی دو یا دو سے زیادہ کتابیں شامل ہوں گی تو اس طرح درج کی جائیں گی:
ندوی، سید سلیمان، 1950ء"عرب و ہند کے تعلقات"، ہندستانی اکیڈمی، الہ آباد،
۔۔۔۔،1925 "عربوں کی جہاز رانی" دارالمصنفین، اعظم گڑھ۔
یہاں یہ بات دہرانے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ نام کے آخری جزو کو اولا استعمال کرنے کی توجیہ یہ ہے کہ حاشیے یا حوالے میں محظ ایک مختصر نام اور صفحہ نمبر بلعموم اصل تک رہنمائی کے لیے کافی ہے اور اس طرح جگہ کم گھرتی ہے اور مقالہ نویسوں پر مصنفین کے ساتھ ساتھ قارئین کے لیے با سہولت ہے۔ ہاں ، اگر ایک ہی مصنف کی ایک سے زیادہ تصانیف استفادے میں آئی ہیں تو مختصر نام کے ساتھ سن اشاعت اور صفحہ نمبر کافی ہےاسی ترتیب سے "فہرست اسناد محولہ" اندراج بھی منطقی اور سہل ہے۔ اس لیے "فہرست اسناد محولہ" میں نام، سن، اشاعت، کتاب کا نام، اور پھر ناشر کا نام اور شہر کے ناموں کی ترتیب ہر لحاظ سے مفید اور سہل ہے۔
بالعموم ہمارے مصنفین کا ایک رحجان یہ ہے کہ وہ اردو کتابیات میں مغربی یا دیگر زبانوں کے ماخذ کو ایک الگ فہرست میہں ترتیب دیتے ہیں اور ساری تفصیلات رومن رسم الخط میں تحریر کرتے ہیں۔ یہ اصول دشوار گزار ہے ترتیب کے لحاظ سے بھی اور ماخذ کو تلاش کرنے کے لحاظ سے بھی۔ خاص طور پر اس وقت جب حوالے یا حاشیے میں کسی ایسے مصنف کی کتاب کا حوالہ ہو کہ اس کی کتاب اردو میں ہو اور ساتھ ہی انگریزی یا کسی اور زبان میں بھی ہو تو ایسے مصنفین کی کتابیں علیحدہ علیحدہ فہرستوں میں اور بار بار تلاش کرنی پڑیں گی،یہ عمل دقت طلب بھی ہے اور الجھن کا باعث بھی۔ اس صورت حال سے بچنے کے لیے یہی بہتر ہے کہ بلا امتیاز زبان تمام ماخزایک ہی تسلسل میں ہوں تا کہ ہر مصنف کی ایک سے زیادہ اور مختلف نوعیت کی تصانیف بھی ایک ہی جگہ مل جائیں۔ ورنہ ہمیں علامہ اقبال کی تصانیف کوعلیحدہ علیحدہ اردو میں پھر فارسی میں اور پھر انگریزی میں تلاش کرنے پڑے گا۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ "فہرست اسنادمحولہ" ایک ہی مربوط و مسلسل فہرست ہو۔

4.2.16.4مغربی مصنفین کے ناموں کا مسلہد

"فہرست اسناد محولہ" میں ، جب بنیادی اندراج مصنف کے تحت ہو تو اس میں مصنفین کی لسانی اور علاقائی تفریق بھی ملحوظ نہیں رہنی چاہیے۔ مثلا مغربی زبانوں کے مصنفین کے نام اردو رسم الخط میں لکھ کر انہیں حروف تہجی کے مطابق اپنی ترتیب کے قیام پر شامل ہونا چاہیے اور ساتھ ہی یہ بھی بہتر اور مفید ہے کہ ان کے نام اردو کے ساتھ ساتھ قوسین میں رومن میں بھی لکھ دیے جائیں مثال کے طور پر
نیو یارک“The Last Days of British India”1962ء،(Mosley, Leonard)موسلے لیونارڈ
، 1960ء،(Moreland, W. H)مورلینڈ، ڈبلیو۔ایچ
لندن
اس طرح نام کے تلفظ میں کوئی غلطی نہ ھو گی اور لہجے بھی سامنے رھیں گے۔ جن کی مدد سے اس نام کو
کسی اور جگہ جیسے کتابیات، کتب خانوں اور انٹر نیٹ پر تلاش کرنا آسان ھو جاے گا۔
مضامین و مقا لات وغیرہ کا اندراج4.2.16.5
"فہرست اسناد محولہ" میں یہ ضابظہ ہر نوع کے مآخذ اور اندراجات کے لیے یکساں رھے گا۔ اگر مکمل کتاب کے بجاے کوئی مقالہ یا مضمون کسی کتاب یا رسالے یا اخبار سے اخذ کیا گیا ھو تو ان کا اندراج بھی مصنف کے لحاظ سے اسی طرح ھوگا۔ جس طرح حوالے یا حاشیے میں بتایا گیا ھے۔ یعنی مصنف کا نام ، سن اشاعت، عنوان، مشمولہ(جیسے کتاب / رسالہ /اخبار) پھر قوسین میں شہر ، اس کے بعد رسالے یا اخبار کی صورت میں جلد نمبر، شمارہ نمبر، اور تاریخ اور آخر میں صفحہ یا صفحات بمبر ، صفحات نمبر کا اہتمام ، مضامین و مقالات کے اندراج کی صورت میں "فہرست محولہ" میں بھی رھے گا۔

نا مکمل تفصیلات کی صورت میں4.2.16.6

جن مصنفین کے نام معلوم نہیں یا موجود نہیں انھیں "نا معلوم" کے تحت درج کیا جاے گا۔ اور اگر ایسے کیی مآخذ ھوں تو ان کی ترتیب سن اشاعت کے ذیل میں ھوگی۔ تا کہ ان کا فرق واضح رھے اور اگر ایک ھی سن کے کیح مآخذ ھوں تو پھر سن کے علاوہ عنوان کے حروف تہجی کے لحاظ سے ان کی ذیلی ترتیب برقرار رکھی جاۓ گی
جن مآخذ پر سن اشاعت اور مخطوطے کی صورت میں سن کتابت موجود ھو۔ یا اس کا تعین نہ کیا جا سکے تو متعلقہ مقام پر " سن ندارد" لکھا جاے گا۔ اس کے مخفف کے لیے عام طور پر "س ن" استمعال کیا جاتا ھے۔ جو معروف بھی ھے۔ یعنی اندراج میں:
پبلشرز یوناییٹڈ، لاھور۔“The War of Succession”غوری ، ابراھیم علی خان، س ن۔
مطبوعہ کتاب پر اگر سن اشاعت درج نہیں ھے تو کسی داخلی شہادت مثلاًًَََ دیباچہ پر اگر درج ھو تو اسے سن اشاعت تسلیم کرکے اس کے ساتھ سوالیہ نشان تحریر کردینا چا ہیے ۔ جیسے (946ء؟) ۔ بعض مطبوعات پر ناشر کا نام موجود نہیں ھوتا، اس صورت میں شہر کا نام کافی ھے۔ یعنی جو کمی ھے اس کی جگہ خالی چھوڑ دی جاۓ۔

بعض دیگر ضروری امور4.2.16.7

مآخذ کے اندراج میں یہ امر بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ اگر وہ مآخذ ایک سے زاید جلدوں پر محیط اور اس کی ایک ھی جلد یا زاید جلدیں استعمال میں آئی ھیں تو متعلقہ جلد کا نمبر عنوان کے بعد درج کر دینا چاہیے جیسے سری رام، لالہ، 1921 ء "خمخا نہ جاوید" ج ا
مآخذ کی زبان کی نشاندہی بھی کہ اگر وہ اردو کے علاوہ کسی ایسی زبان میں ھو جو بیک نظر شناخت نہ کی جا سکے یا مثلا فارسی میں ہو لیکن عنوان سے زبان کا پتہ نہ چلتا ہو تو عنوان کے بعد قوسین میں اس کی نشاند ہی کر دینی چاۓ۔ جیسے
ولی اللہ، شاہ، دہلوی 1296 ھ، حجتہ اللہ البالغہ"(عربی)
1310 ھ"البدورالبازغہ(فارسی)۔۔۔
جبکہ یہ کتاب نام کے لحاظ سے عربی لگتی ہے۔
بعض مطبوعہ مآخزایک سے زیادہ مرتبہ شائع ہوتے ہیں۔ اس صورت میں یہ بتا دینا چاہءے کہ جو نسخہ استفادے میں رہا ہے، وہ اس مآخذ یا کتاب کی کونسی اشاعت ہے۔ یہ نشاندہی آخر میں کی جا سکتی ہے جیسے:
نساح، عبد الغفور، 1973 ء "سخن شعراء" اتر پردیش اردو اکیڈمی، لکھنؤ، دوسری اشاعت
"فہرست اسناد محولہ" میں کچھ مصنفین کی ایک سے زیادہ کتابیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
اس صورت میں ان کا اندراج ، اس مصنف کے نام کے تحت سن اشاعت کی ترتیب کے مطابق ہونا چاہےی اور اگر ایک ہی سال میں طبع ہونے والی کیا یا ایک سے زیادہ تحریریں ہوں تا انہیں سن اشاعت کے بعد عنوان کے حروف تہجی کے اعتبار سے درج کرنا چاہیۓ۔ یہ بھی خیال رہے کہ ایسے کثیر التصانیف مصنفین کا نام بار بار دہرانا نہیں چاہیے۔ بلکہ نام ایک بار لکھ کر دوسری کتاب یا ماخذ کا اندراج مصنف کے نام کی جگہ ایک لکیر کھینچ کر سن اشاعت اور دیگر تفصیلات درج کرنا چاہیے
جیسے
ایڈنبرا یونیورسٹی، ایڈنبراIslam in Sicily، احمد عزیز، 1927،

4.2.16.8 رموز اوقاف کا تعین

یہاں اس امر کا اعادہ ضروری ہے کہ زبان خصوصا تحریر کی شائستگی، معنویت اور معیار کا تقاضہ ہے کہ رموز اوقاف پر خاص توجہ دی جاۓ اور احتیاط اس حد تک روا رکھی جانی چاہیے کہ اس کے استمعال میں سہونہ ہو ۔ بعض اوقات ان کا لحاظ نہ رکھنے سے معنی بدل بھی سکتے ہیں اور معنویت پیدا بھی کی جا سکتی ہے۔ ایک تحقیقی مقالے میں درج زیل علامتوں کے مناسب اور ضروری استعمال پر توجہ دی جانی چاہیے۔
اقتباس، تراکیب یا وہ الفاظ اور جملے، جنھیں عبارت میں نمایاں کرنا ہو، انھیں واوین کے درمیان لکھنا چاہیے۔ یہ واوین دوہرے(" ") ہونے چاہیں لیکن بعض صورتوں مین محض اشارۃ کسی لفظ یا ترکیب یا جملے کو قدرے الگ یا نمایاں کرنا ہو تو اکہرے واویں(' ') کا استعمال کیا جاءے۔
اقتباس چاہے بین السطور ہو یا ایک مربع کی شکل میں، اس کے آغاز و خاتمے پر واوین (دوہرے) استعمال کرنا چاہیے
تصانیف یا مآخذ کے عنوان لازمی طور پر دوہرے واوین کے درمیان لکھے جائیں ۔ رومن رسم الخط میں تو یہ سہولت موجود ہے۔ تصانیف یا مآخذ کو اطالوی طرز سے ترچھا لکھا جا سکتا ہے۔ اردو میں ایسا کیا تو جا سکتا ہے۔ لیکن اس طرح یہ رسم الخط بہت نمایاں نہیں ہو پاتا اور دیدہ زیب بھی نہیں لگتا ، چنانچہ اردو میں ترچھے رسم الخط کے بجاۓ واوین کا استعمال زیادہ مناسب ہے۔
حاشیے یا حوالے کے لیے بیت کی علامت کا استعمال مناسب ہے۔ اس کا نمبر شمار اس علامت پر درج ہونا چاہیے اس مقصد کے لیے قوسین کا استعمال مناسب نہین کیونکہ عبارت میں قوسین کا استعمال دیگر مقاصد کےلیے بھی ہوتا ہے۔ کسی اشتباہ سے بچنے کے لیے حوالے یا ہاشیے کی نشاندہی قوسین کے بجاءے بیت کے نشان سے ہی مناسب ہے۔ چونکہ تعلیقات کے لیے اکثر صورتوں میں علیحدہ نشان کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو بیت کے نشان سے مختلف ہو، اس لیے یہ ہو سکتا ہے کہ اس نشان کے ساتھ ایک اضافی نشان ستارے کا لگا دیا جا‌ۓ۔ مثال کے طور پر یہ نشان اور اس پر نمبر شمار تعلیقات کا اپنا ہو اور اس کا سلسلہ شمار الگ الگ رہے۔
عنوان میں اگر تشریحی الفاظ یا ذیلی عنوان شامل کرنا ہو، تو رانطے کا نشان(Smile لگانا چاہیے۔ جیسے:
۱- جنگ آزادی1857 ء: واقعات و شخصیات"،
۲- اقتصادی ترقی کا منظر: 1971ء سے پہلے اور بعد"،
۳- ادب اور ثقافت: باہمی اثرات کا ایک مطالعہ
حاشیے میں جب ایک سند کے ساتھ دوسری سند یا مآخذ کو بھی بطور حوالہ شامل کرنا ہو تو پہلے حوالے کے بعد وقفہ کا نشان (؛) لگا کر دوسرے مآخذ کا اندراج کرنا چاہیے۔ مثلا
ندوی 1950ء، ص 15مدنی، ص 97اور اس طرح ایک سے زیادہ جتنے بھی مآخذ ہوں ہر اندراج کے بعد یہ نشان لگا کر اگلا مآخذ درج کرنا چاہیے

4.3 فہرست اسناد محولہ ایک نمونہ

زیر نظر صفحات میں حوالے حاشیے اور دیگر مباحث کے ذیل میں "فہرست اسناد محولہ" کی ترتیب اور اس کے تقاضوں کا بھی ذکر ھوتا رہا ھے۔ اوران تبدیلیوں کا حوالہ بھی آتا رہا ھے جو جدید تر رجحانات اور تبدیلیوں کے نتیجے میں آج کی ترقی علمی دنیا میں گزشتہ دو تین دہائیوں سے رواج میں ھیں۔ یہاں نمونہ کے طور پر ایک مختصر "فہرست اسناد محولہ" پیش کی جا رہی ھے۔ جس میں تقریباً وہ تمام صورتیں دیکھی جا سکتی ھیں۔ جن کے مطابق ایک تحقیقی مقالے یا کتاب کے لیے جدید تر اصولوں پر مبنی ایک معیاری فہرست مرتب کی جا سکتی ہے۔ یہ فہرست ایک مقالےاور کتاب کی ضروت کے تحت بھی مرتب کی جا سکتی ھے۔ اور کسی اور مقصد سے ایک کتابیات کے طور پر بھی مرتب ھو سکتی ہے

4.3.1 نمونہ

اسلم، شاہد، ڈاکٹر، 2007 ،"انقلاب کی دستک" ، ارتقا پبلی کیشنر، فیصل آباد
اکرام، شیخ محمد ، 1973، "رود کوثر" ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور
اشاعت پنجم
، 1910ء، ج 25، گورنمنٹ آف انڈیا پریس، کلکتہThe Imperial Gazetteer Of India امپریل گزیٹر آف انڈیا،
ج 5 شکاگو، ص117French Revolution "انساءیکلو پیڈیا برٹینیکا"
برقی معلومات، 17 میe 2007
Wikipediaبذریعہ انٹر نیٹ ، بوسیلہ Bush’s Policy on Iraq
The Imaginary Muslims: Uwaysi Sufies of Central Asia1993ء،Baldick, Julian)بالدک، جولیان
آءی، بی اورس کمپنی، لندن
حسین، میر محمد، 1786ء، مکتوب بنام لارڈارل کارنوالس"، (فارسی) مورخہ 17 دسمبر، مسمولہ: "فارسی اخبارات و مراسلات"،
ج ا ، مرتبہ: پرماتماشرن، ایشیا پبلشنگ ہاءوس، بمبیل 1965
حسین احمد مدنی، مولانا، دیکھیے: مدنی، حسین احمد ، مولانا

رشید، سید خالد، ڈاکٹر، سن ندارد"اینگلو محمڈن لاء: بعض بنیادی مسائل "مشمولہ: "فکر اسلامی کی تشکیل جدید"، مرتبہ : ضیا الحسن فاروقی اور مشیر الحق، مکتبہ رحمانیہ، لاہور، ص 349-355
سلیمان ندوی، سید دیکھیے: ندوی، سید سلیمان
سید خالد رشید، ڈاکٹر- دیکھیے: رشید ، سید خالد ، ڈاکٹر
(حیدرآباد)ج

Islamic Cultureمشمولہ: “ The Dairat Al Maarif” صدیقی، محمد سلیمان، 2002ء
ج 75 ، ش ۱، اپریل ص 199-216

عارف نوشاہی، ڈاکٹر، 2005 "صوفیاۓ بیجا پور کے دو اہم فارسی تذکرے" مشمولہ: " نقد عمر" اورئینٹل پبلی کیشنز، لاہور، ص 151-147

مترجم: محمد مہدی“Indian Muslimsمجیب محمد، پروفیسر 1923 "ہندوستانی مسلمان" اردو ترجمعہ از "
قومی کونسل براۓ فروغ اردو ، نیف دہلی1997
مدنی، حسین احمد ، مولانا 1322 ھ "مکتوب بنام مولانا محمد زکریا" مورخہ 21 رمضان ، مشمولہ:
اکابر کے خطوط" مرتبہ: محمد شاہد سہانپوری، کتب خانہ اشاعت العلوم ، سہارنپور

OR 1929مشتاقی، رزق اللہ، 1570 ء،"واقعات مشتاقی" فارسی قلمی، مخزونہ: برٹش لایبریری، لندن، بہ ذیل:
Queen Victorias Proclamation” وکٹوریہ، ملکہ، 1857 ء،
The Evolution of India and Pakistan Selected Documentsمشمولہ:
مرتبہ: سی- ایچ فلپس، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، لندن، 19641857-1947
ولی اللہ ، شاہ ، دہلوی، 1999 ء" نادر مکتوبات شاہ ولی اللہ دہلوی"(فاریس، مع اردو ترجمعہ) مترجم نسیم احمد فریدی ، مولانا، ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور، قبل 1127ھ" مکتوبات شاہ ولی اللہ " (فارسی) ج 2، (قلمی)، مخزونہ: کتب خانہ مرتضی حسن چاند پوری" بحوالہ" فہرست کتب حضرت مرتضی حسن چاند پوری" ج ا ، ص 45، نمبر 43، فن تصوف
ہادی علی خان، مرزا، 25 میک 2007، انٹرویو، بمقام بی ، 215، بلاک 15، گلشن اقبال ، کراچی، شام 6 بجے

شمارہ، ص: صفحہ=جلد، ش=اس فہرست میں جو مخففات درج ہوے ہیں، ان کی تشریح یہ ہے: ج
نمونے کی اس فہرست میں دیکھا جاۓ تو مستقل یا مکمل کتابیں بھی شامل ہیں ، مضامین کے مجموعے اور ان سے اخذ کردہ مضمون بھی شامل ہیں، جو ایک ہی مصنف کے یا متعدد مصنفین کے لکھے ہوۓ ہیں، اس میں تراجم بھی ہیں اور مخطوطہ اور خطوط بھی۔ زبانوں کے لحاظ سے یہ اردو فارسی اور انگریزی کتب و مآخذ پر مشتمل ہیں
مصنفین کے ناموں کے لحاظ سے اس میں وہی اصول اختیار کیا گیا ہے، جو ہر طرح مفید اور ترقی یافتہ علمی دنیا میں ایک عرصے سے مروج ہیں۔ جہاں اس اصول کے تحت، ناموں کے تعلق سے کوئی اشتباہ یا سہو کا امکان ہو، وہاں منسلکہ حوالے کے ذریعے اس نام کے مزید مقام یا مقامات کی جانب رہنمائی کر دی گیل ہے۔ مثلا" سلیمان ندوی اور حسین احمد مدنی کے تحت انہیں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس فہرست میں اختیار کردہ رموز اوقاف پر بھی توجہ دی جانی چاہیے اور یہ امر بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ جو اندراج ایک سطر سے زیادہ پر محیط ہے اس کی دوسری سطر کا آغاز سن اشاعت کے نیچے سے کیا گیا ہے اور نام کی جگہ خالی رکھی ہے تا کہ اوپر اور نیچے مصنفین کے نام نمایاں رہیں۔
یہاں یہ بھی واضح رہے کہ پروفیسر محمد مجیب کی تصنیف پر سن اشاعت1963ء لکھا ہے، جو ان کی اصل انگریزی تصنیف کا سن اشاعت ہے، ترجمعہ کا سن اشاعت آخر میں درج کیا گیا ہے۔ اس طرح شاہ ولی اللہ دہلوی کی جس دوسری تصنیف کا اندراج کیا گیا ہے۔ اس پر سن اشاعت : قبل 1167ھ درج کیا گیا ہے۔ یہ مخطوطہ ہے اور چونکہ مطواطے پر سن کتابت درج نہ ہو گا اس لیے اس کے مرتب کا سن وفات 1167ھ درج کیا گیا ہے۔ جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ مرتب کی وفات سے قبل یہ مخطوطہ یا مجموعہ مرتب ہو چکا تھا۔ جس مخطوطے پر سن تصنیف یا سن کتابت درج نہ ہو، داخلی شہادتوں سے اسے متعین کرنے کی کوشش کرنا تحقیق کا ایک بنیادی وظیفہ ہے۔ اس طرح ماخذ کو اور خود اپنے کام کو استناد حاصل ہوتا ہے۔

عقیل، پروفیسر ڈاکٹر معین الدین۔ "رسمیات مقالہ نگاری: تحقیقی مقالہ نگاری کے جدید تر اور سائنٹیفک اصول"ماہنامہ اخبار اردو۔ جلد 24، شمارہ 7 جولائی 2007۔

نو ٹ: اردو یا انگریزی اعداد میں سے ایک کا انتخاب کیا جا نا ضروری ہے۔ مزکورہ با لا مضمون میں انگریزی اعداد استعمال کیے گۓ ہیں۔

عبدالحئی عابد
Admin

Posts : 21
Join date : 11.11.2010
Location : سرگودھا،پاکستان

View user profile http://islamiat.forumur.net

Back to top Go down

Back to top


 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum